نئی دہلی،12؍اگست (ایس او نیوز؍یو این آئی) اپوزیشن نے دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) برادریوں کی فہرست بنانے کا اختیار ریاستوں کو دینے سے متعلق آئین کے127ویں ترمیمی بل کا خیرمقدم کرتے ہوئے آج الزام لگایا کہ عوام کے دباؤ میں اسے دو سال پہلے کی گئی غلطیوں کو سدھارنے کیلئے مجبوراً اس بل کو لانا پڑا ہے - اپوزیشن نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ سرکار ریزرویشن کی50فیصد کی حد کو ہٹانے کے لئے بھی بل بھی لائے -دوپہر بارہ بجے ایوان کی کارروائی شروع ہونے پر اسپیکر اوم برلا نے ضروری دستاویز ایوان کی میز پر رکھوانے کے بعد آئینی 127ویں ترمیم بل 2021پر بحث شروع کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد اپوزیشن پارٹیوں کے ارکان، جو ہنگامہ آرائی کر رہے تھے اور ایوان کے وسط میں نعرے بازی کر رہے تھے، اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے تاکہ وہ بحث میں حصہ لے سکیں - اگرچہ کانگریس اور ترنمول کانگریس نے مباحثے میں پیگاسس مسئلے پر بحث کرنے کی تجویز پیش کی، لیکن اسپیکر نے اسے منظور نہیں کیا-سماجی انصاف و اختیارات کے وزیر ڈاکٹر ویرندر کمار نے ایوان میں بحث کے لیے بل پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کے ذریعے یہ واضح کیا جانا ہے کہ او بی سی برادریوں کی فہرست ریاستوں کو معاشرتی ضرورت کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ملے گا- ریاستیں اس سے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی نوکریوں اور تعلیمی اداروں میں داخلے کے عمل میں مقامی فہرستوں میں درج او بی سی برادریوں کو فائدہ ہوگا- اس ترمیم میں ریاستی او بی سی کمیشن کے ساتھ مشاورت کی شرط بھی ختم کردی گئی ہے - اس سے او بی سی کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے روزگار اور تعلیم کے حالات بہتر ہوں گے -بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری نے کہا کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ہم آدیواسیوں، دلتوں اور او بی سی کے حق میں نہیں ہیں - انہوں نے کہا کہ کانگریس لیڈر راجیو گاندھی نے میونسپلٹی ایکٹ اور پنچایت ایکٹ میں درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست ذات و قبائل کو ریزرویشن دیا- مسٹر چودھری نے کہا کہ کانگریس اس بل کی حمایت کرتی ہے - لیکن حکومت کو سوچنا چاہیے کہ یہ بل کیوں لانا پڑا- ایسا اس لیے ہوا کیونکہ2018میں آئین کی102ویں ترمیم کے وقت اپوزیشن نے خبردار کیا تھا کہ ریاستوں کی او بی سی برادریوں کے انتخاب کے حق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے لیکن حکومت نے ہماری باتوں پر توجہ نہیں دی-
اگر ہماری بات سنی جاتی تو یہ بل لانے کی ضرورت نہ پڑتی-انہوں نے کہا کہ حکومت اپنی اکثریت پر گھمنڈ کرتی ہے اور کسی کی پرواہ نہیں کرتی- لیکن کسی کو عوام کی بولی کے سامنے جھکنا پڑتا ہے - پنجاب، اتر پردیش، اتراکھنڈ میں الیکشن ہونے والے ہیں، اس لیے حکومت تحفے دے کر عوام کو خوش کرنا چاہتی ہے - انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس تمام ہتھکنڈے ختم ہو چکے ہیں - ہم اس بل کی حمایت کرتے ہیں لیکن حکومت کو1992کے اندرا ساہنی کیس میں 50فیصد ریزرویشن کی حد کو ختم کرنے کے لیے اس کے بعد بل یہ لانا چاہیے - تمل ناڈو میں جس طرح 69فیصد ریزرویشن ہے، اسی طرح یہ پورے ملک میں ہونا چاہیے -کانگریس لیڈر نے کہا کہ ملک میں ریزرویشن کا نظام صدیوں سے چل رہا ہے - لیکن آئین کی102ویں ترمیم کے بعد مہاراشٹر میں مراٹھا ریزرویشن پر، سپریم کورٹ نے جولائی میں کہا تھا کہ صرف مرکزی حکومت کو او بی سی کی فہرست بنانے کا حق حاصل ہے - اس سے671ذاتیں او بی سی کے زمرے سے خارج ہوجاتیں - اسی لیے حکومت کو127ویں ترمیم لانا پڑی- انہوں نے کہا کہ حکومت نے پہلے ہی آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی اور اب جب لگتا ہے کہ یہ غلط ہو گیا ہے تو پھر اس میں سدھار کی جا رہی ہے، یہ حکومت کی مجبوری ہے - انہوں نے کہا کہ ہم کوآپریٹو وفاقیت پر یقین رکھتے ہیں اس لیے ہم اس بل کی حمایت کر رہے ہیں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جانب سے بحث کا آغاز کرتے ہوئے محترمہ سنگھ مترا موریہ نے کہا کہ وہ او بی سی کو بااختیار بنانے کے لیے اس بل کی حمایت کرنے پر کانگریس لیڈر کا شکریہ ادا کریں گی وہ دوسرے پسماندہ طبقات کو یہ حقوق مل رہے ہیں تو اس کا کریڈٹ مرکز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو جاتا ہے - انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کی پہل کی وجہ سے طبی تعلیم میں او بی سی کو ریزرویشن کا حق ملا ہے - لیکن کانگریس نے ایسے اقدامات کئے کہ ریزرویشن ختم کر دیا جائے - انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ذات پر مبنی مردم شماری 1939تک جاری رہی لیکن کانگریس کے برسر اقتدار آنے کے بعد اسے روک دیا گیا- آج مودی حکومت نے ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا ہے - مودی حکومت میں 27او بی سی وزراء ہیں - یہ حکومت غریب، پسماندہ، انتہائی پسماندہ، مظلوم کے حق میں کام کرتی ہے -دراوڑ منیترا کزگم کے مسٹر ٹی آر بالو نے اس بل کو لانے کے لیے حکمران جماعت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگرچہ یہ بل عوامی دباؤ کا نتیجہ ہے، اس سے او بی سی برادریوں کی تیزی سے ترقی کی راہ ہموار ہوگی-ترنمول کانگریس کے سدیپ بندیوپادھیائے نے کہا کہ ان کی پارٹی آئین کی127ویں ترمیم کے بل کی حمایت کرتی ہے - لیکن حکومت کو پیگاسس سے بھاگنا نہیں چاہیے - جب اس بل پر آج بیٹھ کر بات کی جا سکتی ہے تو پھر پیگاسس پر کل بحث ہونی چاہیے - ایوان بالا راجیہ سبھا اور اور ایوان زیریں لوک سبھا میں 30 بل دس منٹ میں پاس ہو رہے ہیں - اس پر پریذائیڈنگ آفیسر محترمہ رما دیوی نے انہیں ٹوکا کہ صرف بل کے موضوع پر بات کی جائے -مسٹر بندوپادھیائے نے کہا کہ ہم کوآپریٹو وفاقیت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ حکومت وفاقی ڈھانچے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے - ہم چاہتے ہیں کہ وفاقی نظام مضبوط ہو اورایوان کو اچھی طرح چلایا جائے - انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی ایک ریاست میں کامیاب رہی ہے - مسٹر مودی عوام کے تعاون سے الیکشن جیت کر وزیر اعظم بنے ہیں - ہمیں ایک دوسرے کے کام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے -انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ ایک دن وفاقی ڈھانچے پر ایوان میں بحث ہونی چاہیے - انہوں نے کہا کہ آئین کی120ویں ترمیم کی وجہ سے ریاستوں کے حقوق اور ریاستوں کے او بی سی کمیشن ایک طرح سے کالعدم ہو چکے ہیں - کئی ریاستوں کے احتجاج کے بعد مرکزی حکومت کو یہ بل لانا پڑا-